حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
ہرچیز کی ایک چوٹی ہوتی ہے اور قرآن کریم کی چوٹی سورۂ البقرہ ہے۔ اس سورۃ میں ایک آیت مبارکہ ہے یہ ساری آیات کی سردار ہے اور یہ آیت مبارکہ آیت الکرسی ہے۔ حوالہ سنن ترمذی حدیث نمبر ۲۸۷۸
اسی طرح سیدنا ابی بن کعبؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
اے ابو المنذر ! اللہ کی کتاب میں سے تمہارے پاس کون سی آیت مبارکہ سب سے بڑی ہے؟
انہوں نے عرض کیا کہ میں نے کہا اللہ اور اس کے رسول ﷺ خوب جانتے ہیں۔
آپ ﷺ نے فرمایا اے ابو المنذر ! کون سی آیت اللہ کی کتاب میں سے تمہارے پا س سب سے بڑی ہے۔ اس پر انہوں نے عرض کیا کہ
اللہ لا الہ الا ھوالحی القیوم (آیت الکرسی) تو رسول اللہ ﷺ نے ایک ہاتھ مارا میرے سینہ پر اور فرمایا اے ابو المنذر ! تجھے علم مبارک ہو۔حوالہ صحیح مسلم حدیث نمبر ۱۸۸۵
بزرگ فرماتے ہیں کہ آیت الکرسی کی روزانہ تلاوت کرنے والااللہ کی حمد کے ساتھ رحمت طلب کرتا ہے۔ جب اللہ کی حمد و ثناء کے ساتھ اللہ سے کوئی سوال کیا جائے تو وہ رد نہیں ہوتا ۔ جو شخص آیت الکرسی کی روزانہ کم ازکم ایک بار تلاوت کو اپنے اوپر لازم کر لے تو ایک وقت آتا ہے کہ اس کی اپنی دعاؤں میں اتنا اثر پیدا ہو جاتا ہے کہ اس کی ہر جائز دعا فوراً ہی قبول ہو جاتی ہے۔
آیت الکرسی سورۂ البقرہ کی آیت نمبر ۲۵۵ ہے۔
ترجمہ:
خدا (وہ معبود برحق ہے کہ) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں زندہ ہمیشہ رہنے والا اسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہیں سب اسی کا ہے کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس سے (کسی کی) سفارش کر سکے جو کچھ لوگوں کے روبرو ہو رہا ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہوچکا ہے اسے سب معلوم ہے اور وہ اس کی معلومات میں سے کسی چیز پر دسترس حاصل نہیں کر سکتے ہاں جس قدر وہ چاہتا ہے (اسی قدر معلوم کرا دیتا ہے) اس کی بادشاہی (اور علم) آسمان اور زمین سب پر حاوی ہے اور اسے ان کی حفاظت کچھ بھی دشوار نہیں وہ بڑا عالی رتبہ اور جلیل القدر ہے۔
اس کے علاوہ ہمارے ہاں جو آیت الکرسی کے نقش تحریر کئے جاتے ہیں۔ ان پربھی کڑوڑوں کی تعداد میں آیت الکرسی کی تلاوت کرکے دم کیا گیا ہے۔ یہ نقش آپ شادی میں آسانی، کاروبار میں برکت، رزق میں فراوانی، بے اولادی، جسمانی ، نفسیاتی ور وحانی امراض، بے روزگاری، تعلیمی کامیابی ، پسند کی شادی یا دیگرمسائل زندگی سے نجات کے لئے منگوا سکتے ہیں۔

نقش حاصل کرنے کا طریقہ